واسطی علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ یعنی ہم اس شہر کی قسم کھاتے ہیں جس میں زندگی ( حیات ظاہری) میں قیام فرما کر اس کو مشرف کیا اور بعد وصال ( حیات باطنی) اپنی برکتوں سے اس کو نوازا یعنی مدینہ منورہ ۔<br /> اول تو جیہ زیادہ درست ہے کیونکہ یہ سورہ مبارکہ مکی ہے اور ما بعد کی دوسری توجیہ کو اللہ عزوجل کا فرمان ’’حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ ‘‘ اس کی تصحیح کرتا ہے۔<br /> اسی طرح اللہ عزوجل کا فرمان ’’ وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ‘‘ (التین:۳) کی تفسیر میں ابن عطاء علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کے قیام کی وجہ سے اس شہر کو مامون بنایا کیونکہ آپ ﷺ کا ہونا ہی امن ہے، جہاں بھی آپ ﷺ رونق افروز ہوں ، اس کے بعد اللہ عزوجل فرماتا ہے:<br /> وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ : اور تمھارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو۔( البلد:۳) <br /><br />جو شخص یہ مراد لیتا ہے کہ والد سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں تو یہ ایک عام بات ہے اور بعض حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد مراد لیتے ہیں۔(لیکن بات یہ ہے کہ) انشاء اللہ عزوجل یہ آیت حضور ﷺ کی طرف اشارہ کر رہی ہے کیونکہ سورہ مبارکہ دو مقامات پر حضور ﷺ کی قسم پر مشتمل ہے۔ اور اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: <br /> الٓمّٓۚ۱ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْهِ (البقرہ:۱-۲)<br /> وہ بلند رتبہ کتاب ( قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں۔ <br /><br />کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ<br /> مختصر نام: الشفا شریف <br />مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ<br /> مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ<br /><br />#Shorts #AshShifa #Madina <br />#QadiIyad<br />#SurahAlBalad<br />#Seerah<br />#IshqeRasool<br />#Islam<br />#ProphetMuhammad<br />#SeeratunNabi<br />#QuranExegesis<br />#IslamicHistory<br />#IslamicKnowledge<br />#ThinkGoodGreen
